ہفتہ 24 اکتوبر 2026 - 17:28
دہلی میں امارت شرعیہ ہند کا اہم اجلاس: دینی ادارے اسلام کے دفاع اور نئی نسل کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں

حوزہ/ نئی دہلی میں امارت شرعیہ ہند کی مجلسِ شوریٰ کے ایک روزہ اجلاس میں تنظیمی استحکام، محاکمِ شرعیہ کی توسیع اور دینی و عائلی مسائل کے حل کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ مولوی سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں اسلام کے دفاع، نئی نسل کے ایمان و عقائد کے تحفظ، مبلغین کی تقرری اور دینی رہنمائی کے نظام کو مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/امارت شرعیہ ہند کی مجلسِ شوریٰ کا ایک روزہ اجلاس آج مدنی ہال، مرکزی دفتر امارت شرعیہ ہند ،نئی دہلی میں مولوی سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے مجلسِ شوریٰ کے ارکان، امرائے شریعت اور ان کے نائبین نے شرکت کی۔

اجلاس میں امارت شرعیہ ہند کے تنظیمی استحکام، محاکمِ شرعیہ کی توسیع، دینی و عائلی مسائل کے حل، قضاۃ و مفتیان کی تربیت سمیت مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا گیا اور متعدد فیصلے کیے گئے۔

اجلاس کے آغاز میں مفتی سید محمد سلمان منصور پوری نے سابقہ اجلاس کی کارروائی پیش کی اور زیرِ بحث امور کا تعارف کروایا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے عائلی و سماجی مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے، دینی بیداری پیدا کرنے اور شرعی رہنمائی کے نظام کو عام کرنے کے لیے امارت شرعیہ کے کام کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے۔ جن صوبوں میں ابھی امارت شرعیہ قائم نہیں ہوئی ہے، وہاں اس کے قیام کے امکانات اور طریقۂ کار پر بھی گفتگو ہوئی۔

دینی ادارے اسلام کے دفاع اور نئی نسل کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں: امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی

اجلاس میں دفاعِ اسلام کے عنوان سے مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی کی رپورٹ پیش ہوئی جس میں بتایا گیا کہ Help X Muslim کے نام سے ایک ویب سائٹ اور چینل کے ذریعے علمی مکالمے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے مدلل جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔ارکان کی طرف سے اس کی ستائش کی گئی۔

اس موقع پر مولوی سید ارشد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں الحاد اور ملحدانہ افکار کے ذریعے اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں دفاعِ اسلام اور نئی نسل کے ایمان و عقائد کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ترغیب دی کہ تمام دینی تنظیموں اور مدارس کے ذمہ داران اس کام کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہوئے منظم اور مستقل کوششیں کریں۔ ضرورت پڑنے پر مدارس اور دینی تنظیمیں اپنے بجٹ کا کچھ فی صداس مقصد کے لیے مختص کریں، تاکہ اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے شبہات اور اعتراضات کا علمی بصیرت، مضبوط دلائل اور حکمت کے ساتھ جواب دیا جا سکے۔

ایک اہم تجویز پر غور کرتے ہوئے مجلس شوری نے یہ فیصلہ کیا کہ عوام کی رہ نمائی کے لیے صوبائی امارتوںکے تحت مبلغ مقرر کئے جائیں جن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ امارت شرعیہ کے مقاصد، خدمات اور محاکمِ شرعیہ کے طریقۂ کار سے علماء اورعوام کو واقف کروائیں۔ مرکزی سطح پر بھی ایک باصلاحیت اور تجربہ کار مبلغ کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا جو مختلف محاکمِ شرعیہ کا دورہ کرکے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور مرکز کو مفصل رپورٹ پیش کریں۔امارت شرعیہ ہند کی خدمات اور سرگرمیوں کو عام کرنے اور عوام کو شرعی رہنمائی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے اس کے نام سے مستقل ویب سائٹ شروع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

دینی ادارے اسلام کے دفاع اور نئی نسل کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں: امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی

اجلاس میں ملک کے تقریباً بارہ صوبوں میں قائم ایک سو ستر سے زائد محاکمِ شرعیہ کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ مفتی ذکاوت حسین قاسمی نے پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں28،آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں 46،دہلی میں4،اڈیشہ میں 15،راجستھان میں 12،تمل ناڈو میں 8،مغربی بنگال میں18، گجرات میں 3،کرناٹک میں 12،ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں 12،تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں 12 محاکم شرعیہ چل رہے ہیں ۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محاکمِ شرعیہ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے تجربہ کار اور تربیت یافتہ قضاۃ و مفتیان کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اڈیشہ، تمل ناڈو، مہاراشٹر وغیرہ کے ذمہ داران نے اپنے اپنے علاقوں میں تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا تقاضا پیش کیا۔ مرکزی قیادت نے اس سلسلے میں لائحۂ عمل تیار کرکے ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مجلسِ شوریٰ کے سال میں کم از کم دو اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ طے شدہ منصوبوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں مولوی سید ارشد مدنی کے علاوہ مولوی محمود اسعد مدنی، مفتی ابوالقاسم نعمانی، مفتی سید محمد سلمان منصورپوری، نعمت اللہ اعظمی، سید اسجد مدنی، قاری محمد امین پوکرن، سید اشہد رشیدی، رحمت اللہ کشمیری، قاری شوکت علی ویٹ، مفتی اشفاق احمد اعظمی، محمد عاقل، عبدالمجید باقوی، ابوالحسن یعقوب، محمد الیاس، مفتی سید معصوم ثاقب، محمدحکیم الدین قاسمی، مفتی سید محمد عفان منصورپوری، سید ازہر مدنی، احسان الدین، ارشد ذکی، روشن شاہ، شکیل راجستھان، فاروق قاسمی اڈیشہ، ابوسفیان قاسمی، محمد علی، شمیم قاسمی اور مفتی ذکاوت حسین قاسمی سمیت دیگر اہم شخصیات و ذمہ داران شریک ہوئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha